Placeholder image

FBR Commences the Current Financial Year by Exceeding the July Target by Significant Margin

Federal Board of Revenue (FBR) has released the provisional revenue collection figures for the month of July, 2022. According to the provisional information, FBR has collected net revenue of Rs. 458 billion during July 2022, which has exceeded the target of Rs 443 billion by Rs 15 billion. This represents a growth of about 10 % over the collection of Rs. 417 billion during the same period, last year. These figures would further improve after book adjustments have been taken into account. These collections are the highest ever in the month of July. This outstanding revenue performance is a reflection of FBR's continued resolve to build further on its growth trajectory achieved during last year.

On the other hand, the gross collection increased from Rs. 438 billion during July last year to Rs. 486 billion, showing an increase of 11%.  Likewise, the amount of refunds disbursed during July was Rs. 28 billion compared to Rs. 21 billion paid last year, showing an increase of 32%. This is reflective of FBR’s strong commitment to fast-track refunds and thereby prevent liquidity shortages in the industry.

The significant revenue increase in July is largely the outcome of various policy and revenue measures introduced by the government in Finance Act 2022. Unlike in the past, there is a visible focus on taxing the rich and affluent. Owing to this paradigm shift, the domestic taxes contributed 55% in collection while import taxes remained 45%. This has reversed the trend. Previously taxes at import stage were 52-53% of overall collection. Likewise, the growth in domestic Income Tax is almost 31% which is a remarkable shift towards direct taxation. Likewise, there is a significant upsurge in Advance Tax collected during July. There is also 118% increase in Advance Tax on sale of properties u/s 236-C due to enabling of a withholding provision applicable irrespective of the holding period.

Likewise, 40% increase in Advance Tax u/s 147, especially from banking companies is due to change in tax rate.

Similarly, increase in the rate of FED on cigarettes/tobacco has paid its dividends. The FED from tobacco has registered a record growth of over 47% or Rs 2.6 billion and the corresponding increase in Sales Tax from Tobacco Sector has registered a record 67% growth. The increased FED on International Air Travel has also registered growth of over 200%.

Furthermore, Pakistan Customs has collected Rs. 67 billion under the head of Customs Duty during July 2022 against 65 billion collected during same period last year, registering a marginal growth of 2.58%. However, it suffered a dip against the target fixed for July of Rs. 77 billion, which is due import compression policy of the government, aiming to control the outflow of US$. Furthermore, FBR suffered from a loss of about 11 billion in Sales tax against zero rating of POL products.

It is pertinent to mention that Income Tax Returns for Tax Year-2021 have reached 3.4 million compared to 3.0 million in Tax Year-2020, showing an increase of 13%. The tax deposited with returns during Tax Year 2021 was Rs.76 billion compared to only Rs.52 billion in Tax Year 2020, showing a significant increase of 46%. Furthermore, building further on its ongoing drive to integrate Tier-1 Retailers across the country, around 23,265 point of sale terminals have been integrated with real time POS reporting system of FBR.

ایف بی آر نے رواں مالی سال کے آغاز میں جولائی کے مہینے کامحصولاتی ہدف نمایاں کارکردگی کے ساتھ عبور کرلیا
فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر) نے رواں مالی سال کے جولائی کے مہینے میں  حاصل کردہ  محصولات کی ابتدائی تفصیلات جاری کر دی ہیں ۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے جولائی کے مہینے کے دوران 458 ارب روپے کے محصولات اکٹھے کئے ہیں جوکہ دیئے گئے ہدف 443 ارب روپے سے 15 ارب روپے زیادہ ہیں۔ یہ اعدادوشمار گزشتہ سال اسی مہینے میں اکٹھے کئے گئے 417ارب روپے سے 10 فیصد زائدبڑھوتری کو ظاہر کرتے ہیں۔  کھاتوں کی ایڈجسمنٹ کے بعد ان اعدادوشمار میں مزید بہتری متوقع ہے۔اس سے پہلے کبھی جولائی کے مہینے میں اتنےمحصولات اکٹھے نہیں ہوئے۔ محصولات اکٹھے کرنے کی مد میں ایف بی آر کی یہ شاندار کاکردگی گزشتہ سال کے دوران حاصل ہونے والی ترقی کی رفتار کو مزید آگے بڑھانے کے مسلسل عزم کی عکاس ہے۔
دوسری جانب مجموعی محصولات گزشتہ سال کے اسی مہینے میں اکٹھے ہونے والے 438 ارب سے بڑھ کر رواں مالی سال کے اس مہینے میں 486 ارب روپے ہوگئے۔ یوں اس مد میں رواں سال کے اس مہینے میں گزشتہ سال کے اس مہینے کی نسبت 11فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح رواں سال جولائی کے مہینے میں ادا کئے گئے ریفنڈز کی رقم 28 ارب روپے تھی جبکہ گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں 21 ارب روپے ریفنڈز کئے گئے تھے۔ اس مد میں گزشتہ سال کی نسبت 32 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ صورتحال ایف بی آر کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ فوری ریفنڈز پر یقین رکھتا ہے تاکہ مارکیٹ میں  ترسیلات زر کی کمی کو روکا جاسکے۔
جولائی کے مہینے کے دوران  محصولات میں ہونے والا یہ نمایاں اضافہ فنانس ایکٹ 2022 میں متعارف کروائے گئے ان اقدامات کا نتیجہ ہے جو کہ پالیسی اور محصولات کی سطح پر کئے گئے تھے۔ماضی کے برعکس ، اب کی بار امیر اور متمول طبقے پر ٹیکس لگایا جارہا ہے۔اس انقلابی تبدیلی کے نتیجے میں یہ ہوا کہ حاصل شدہ محصولات میں مقامی ٹیکسوں کی شرح 55 فیصد جبکہ درآمدی ٹیکس کی شرح 45 فیصد رہی۔ اس صورتحال نے پہلے کے رجحان کو بدل کررکھ دیا ہے۔ اس سے پہلے درآمدی مرحلے پر ٹیکس کی وصولی  مجموعی محصولات کا 53-52فیصد ہوتی تھی ۔ اسی طرح مقامی ٹیکسوں میں بڑھوتری کی شرح تقریباََ31 فیصد ہے جوکہ براہ راست ٹیکسوں کی مد میں نمایاں تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔ مزیدبراں، جولائی کے مہینے کے دوران اکٹھے کئے گئے پیشگی ٹیکس میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سیکشن 236 کے تحت جائیدادوں کی فروخت پر پیشگی ٹیکس میں 118 فیصد اضافہ ہوا ہےجس کی وجہ  ہولڈنگ کی  مدت سے قطع نظرلاگو ود ہولڈنگ کی شرط کو فعال کرنا ہے۔ اسی طرح سیکشن 147 کے تحت بھی پیشگی ٹیکس میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ یہ اضافہ خاص طور پر بینکنگ کمپنیوں سے ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کے سبب ہے۔
مزید براں، سگریٹس اور تمباکو کی صنعت پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں ہونے والے اضافے کے ثمرات بھی آنا شروع ہوگئے ہیں۔ تمباکو کی صنعت سے ملنے والی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 47 فیصد سے بھی زائد اضافہ ہوا ہے جو کہ 2.6ارب روپے ہے ۔ اور تمباکو کے شعبے سے سیلز ٹیکس کی مد میں ریکارڈ 67 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بین الاقوامی ہوائی سفر پر بڑھائی گئی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے سبب اس مد میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 
مزید براں، پاکستان کسٹمز نے کسٹم ڈیوٹی کی مد میں جولائی 2022 کے دوران 67 ارب روپے اکٹھے کئے جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ 65 ارب روپے تھے۔ اس طر ح اس مد میں رواں سال کے اس مہینے میں 2.58 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس مد میں جولائی کے مہینے میں دیا گیا ہدف 77 ارب روپے تھا جسے حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی نئی درآمدی پالیسی کے سبب حاصل نہیں کیا جاسکا۔جس کا مقصد درآمد کی مد میں ملکی صنعت سے امریکی ڈالر کے انخلاء کو روکنا تھا۔اس کے علاوہ پی اوایل مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی مد میں زیروریٹنگ پالیسی کے سبب ایف بی آر کو 11ارب روپے کا خسارہ ہوا۔ 
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ٹیکس سال 2021 کے انکم ٹیکس گوشواروں کی شرح ٹیکس سال 2020 میں 3.0 ملین کے مقابلے میں 3.4 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ یوں اس سال میں 11 فیصد اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔ ٹیکس سال 2021 کے دوران ریٹرن کے ساتھ جمع کردہ ٹیکس 76 ارب روپے تھا جبکہ ٹیکس سال 2020 میں یہ صرف 52 ارب روپے تھا۔ یوں ٹیکس سال 2021 میں 46 ارب روپے کا نمایاں اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔ مزید براں ملک بھر میں ٹیئر-ون ریٹیلرز کو مربوط کرنے کے لئے ایف بی آر کی جاری مہم کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے تقریباََ23265 پوائنٹ آف سیل ٹرمینلز کو ایف بی آر کے رئیل ٹائم پی او ایس رپورٹنگ سسٹم کامیابی سے منسلک کیا جاچکا ہے۔


Copyright © . All rights reserved. Federal Board of Revenue Govt of Pakistan.