Placeholder image

FBR Press Release

Latest FBR Releases

Advisor to PM on Finance & Revenue Launches Historic Initiative on Simplification of Tax Laws

In a watershed development and to press his vision into practice, Mr. Shaukat Tarin, Advisor to PM on Finance & Revenue has launched the formulation of Inland Revenue Code in a bid to harmonize all inland taxation laws and maximize facilitation of taxpayers. It promises to ensure ease of doing business by removing multiplicity of taxing statutes and a plethora of rules & regulations devised to operationalize them. It is pertinent to mention that FBR, on domestic side, implements and enforces four major tax laws i.e. the Income Tax Ordinance, 2001, the Sales Tax Act, 1990, the Federal Excise, 2005, & the Islamabad Capital Territory (Sales Tax on Services) Ordinance, 2001. These four tax statutes are then supported by equal number of rules compiled in voluminous books comprising the Income Tax Rules, 2002, the Sales Tax Rules, 2006, the Federal Excise Rules, 2005 and the Islamabad Capital Territory (Sales Tax on Services) Rules, 2001. Resultantly, a taxpayer has to consult practically eight law books in order to engage with the tax system and pay off his/her tax liability.

It goes beyond saying that the tax laws needed harmonization and simplification. This has long been demanded by World Bank, IMF, ADB and other bilateral and multilateral donors. Similarly, there have been pressing demands by the civil society, lawyers’ community and also superior courts who have found the above laws to be very complexed and even un-implementable. However, previous governments have not been brave enough to embrace this challenge. Keeping this in view, the PTI government has decided to harmonize all these four tax laws by merging them into one law book supplemented by single rules book. It is in this context that in collaboration with ADB, a high level committee has been constituted by FBR consisting of eminent tax professionals from public sector and legal experts from ICAP to continuously oversee and review the draft legislation to ensure quality and correctness. The said committee would monitor the drafting of harmonized Inland Revenue Code, covering all tax laws by the end of March, 2022.  After consultation with all key stakeholders including chambers of commerce, trade bodies, tax practitioners and field formations over April & May, 2022, it will be available for presentation before the Parliament in the Budget Session, 2022 for promulgation. It is positively hoped that the new Inland Revenue Code will be enforced with effect from July 1, 2022.

This high value policy intervention is organically embedded in the larger vision of FBR to promote a culture of automation and digitization in order to ensure taxpayers’ facilitation.

 In order to ensure that the Inland Revenue Code is thoroughly discussed with all major stakeholders and finally developed within the given timelines, Advisor on Finance & Revenue has directed Chairman FBR to personally review the progress of this immensely important draft law and update him on regular basis.


وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیو نے ٹیکس قوانین کو سادہ بنانے کے اقدام کا افتتاح کر دیا

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیوشوکت ترین نے اپنے ویثرن کی تکمیل میں ٹیکس گزاروں کو سہولت دینے کے لئے تمام  ان لینڈ ٹیکس قوانین کو ہم آہنگ اور یکجا کرنے کے لئے ان لینڈ ریونیو کوڈ کو وضع کرنے کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ ان لینڈ ریونیو کوڈ کو وضع کرنے سے تجارتی آسانی کو فروغ ملے گا اور بہت سے قوانین اور ریگیولیشنز کی وجہ سے ٹیکس نظام کی پیچیدگیوں سے چھٹکارا ملے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایف بی آر مقامی سطح پر چار بڑے ٹیکس قوانین کا نفاذ اور عمل درآمد کروا رہا ہے جن میں انکم ٹیکس آرڈینینس 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 اور اسلام آباد حدود (خدمات پر سیلز ٹیکس) آرڈینینس 2001 شامل ہیں۔ اسی طرح ان چار ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کے لئے مفصل رولز بھی بنائے گئے ہیں جن میں انکم ٹیکس رولز 2002، سیلز ٹیکس رولز 2006، فیڈرل ایکسائز رولز 2005 اور اسلام آباد حدود (خدمات پر سیلز ٹیکس) رولز 2001 شامل ہیں۔ اس طرح ٹیکس گزار  کو آٹھ قانون کی کتابوں سے راہ نمائی لے کر اپنی ٹیکس ادائیگی کو پورا کرنا پڑتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس قوانین کو ہم آہنگ اورسادہ بنایا جائے جو کہ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف ، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دوسرے امدادی اداروں کا بھی دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ اسی طرح سول سوسائیٹی ، وکلاء اور اعلی عدالتوں کی طرف سے بھی قوانین کی پیچیدگی کوقوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ قرار دی جاتی  رہی ہے۔پچھلی حکومتوں نے اس اقدام کو اٹھانے کا چیلنج نہ لیا ۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان چار قوانین کو یکجا کرکے قانون کی ایک کتاب بنا دی جائے جس کے لئے صرف رولز کی ایک ہی کتاب ہو گی۔ اس پس منظر کے پیش نظر ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے اشتراک سے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں ممتاز پبلک سیکٹر ٹیکس پروفیشنلز اور آئی سی اے پی سے قانونی ماہرین کو شامل کیا گیا ہے جو کہ مسلسل ڈرافٹ قانون کی تیاری کی نگرانی اور نظر ثانی کریں گےتا کہ معیار اور درستگی کو یقنی بنایا جا سکے۔ یہ کمیٹی ان لینڈ ریونیو کوڈ کی ڈرافٹنگ کی نگرانی کرے گی اور اس حوالے سے تمام قوانین کی جانچ پڑتال مارچ 2022 تک مکمل کر لے گی۔ جس کے بعد تمام سٹیک ہولڈرز بشمول چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیمیں ، ٹیکس وکلاء اور فیلڈ دفاتر کی اپریل و مئی 2022 تک مشاورت کے بعد بجٹ سیشن 2022 کے لئے پارلیمنٹ میں پیش کر دی جائے گی۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان لینڈ ریونیو کوڈ کو یکم جولائی 2022 سے نافذ کر دیا جائے گا۔

یہ تاریخی اقدام ڈیجیٹائیزیشن اور آٹومیشن پر مبنی ایف بی آر کے اس ویثرن کا فطری جزو ہے جس کا مقصد ٹیکس گزاروں کی سہولت کو یقینی بنانا ہے۔

ان لینڈر یونیو کوڈ کو مقررہ تاریخ تک وضع کرنے کے عمل کو یقنی بنانے کے لئے وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیو نے چئیرمین ایف بی آر کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اس اہم ڈرافٹ قانون کی تیاری کے سلسلے میں سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے عمل اور اس کے بعد کے معاملات کی خود نگرانی کریں اور با قاعدگی سے پراگریس رپورٹ پیش کریں۔


Adnan Akram Bajwa
Secretary PR FATE Wing
Nov 12, 2021
Copyright © . All rights reserved. Federal Board of Revenue Govt of Pakistan.