Placeholder image

FBR Press Release

Latest FBR Releases

FBR issues draft rules for new export facilitation scheme 2021

Federal Board of Revenue has issued draft Rules for new Export Facilitation Scheme 2021 and called for comments from industry, exporters and other stakeholders. New Export Facilitation Scheme has been approved by Federal Government and passed by Parliament under Finance Act 2021. This Scheme will be implemented from 14th August 2021 and will run parallel with existing schemes like Manufacturing Bond, DTRE and Export Oriented Schemes for two year. The existing old schemes shall be phased out in next two years and will be fully replaced by Export Facilitation Scheme-2021. Draft Rules can be accessed at official website of FBR.

The Salient Features of new EFS-2021 include Minimum documentation and encourages new entrants and SMEs. This Scheme will be completely automated under WeBOC and PSW. The focus of the Scheme is on post clearance compliance checks and audits. Users of this Scheme include Exporters (Manufacturers cum Exporters, Commercial Exporters, Indirect Exporters), Common Export Houses, Vendors and International Toll Manufacturers. Users of this Scheme shall be subject to authorization of inputs by the Collector of Customs and Director General Input Output Organization (IOCO). Inputs include all goods (imported or procured local) for manufacture of goods to be exported. These include raw materials, spare parts, components, equipment, plant and machinery. No duty and taxes shall be levied on inputs imported by the authorized users and local supplies of inputs to the authorized users shall be zero rated. Through this new Scheme concept of Common Export House to import raw material duty and tax free for subsequent sale to the authorized users especially SMEs has been introduced. This Scheme also introduces concept of International Toll manufacturing. Under this new Scheme, utilization period has been enhanced from two years to five years depending on the profile/category of exporters.

It is expected that Export Facilitation Scheme 2021 shall reduce cost of doing business and cost of tax compliance, improve ease of doing business, reduce liquidity problems of exporters by eliminating Sales Tax refunds and Duty Drawback for the users of Scheme and shall attract more users and shall ultimately promote exports.

ایف بی آر نے نئی ایکسپورٹ سہولتی سکیم 2021 کے قوانین جاری کر دیئے

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے نئی ایکسپورٹ سہولتی سکیم 2021 کے قوانین مرتب کر لئے ہیں  اور تمام سٹیک ہولڈرز بشمول صنعت سے وابستہ افراد اور ایکسپورٹرز سے ان قوانین پر آراء طلب کر لی ہے۔نئی ایکسپورٹ سہولتی سکیم کو وفاقی حکومت نے منظورکیا ہے اور فنانس ایکٹ 2021 کے تحت پارلیمنٹ نے بھی منظوری دے دی ہے۔ یہ سکیم 14 اگست 2021 سے نافذالعمل ہو گی اور مو جودہ جاری سیکموں جیسے مینوفیکچرنگ بانڈ، ڈی ٹی آر ای اور ایکسپورٹ اورینٹڈ سکیموں کے ساتھ جاری رہے گی ۔ موجودہ سکیموں کو مرحلہ وار دو سالوں کے اندر ختم کر دیا جائے گا جس کے بعدنئی ایکسپورٹ سہولتی سکیم 2021 مکمل طور پر لاگو ہو جائے گی۔نئی ایکسپورٹ سہولتی سکیم 2021 کے ڈرافٹ قوانین کو ایف بی آر ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔

نئی ایکسپورٹ سہولتی سکیم کے تحت کم از کم ڈاکیومینٹیشن کی ضرورت ہو گی جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے اینٹر پرائزز کی حوصلہ افزائی ہو گی۔یہ سکیم وی بوک اور پاکستان سنگل ونڈو کے تحت مکمل طور پر خودکار ہو گی۔ اس سکیم کی نمایاں خصوصیت میں پوسٹ کلیرنس آڈٹ اور کنٹرول شامل ہے۔ اس سکیم کو استعمال کرنے والوں میں مینوفیکچررز و ایکسپورٹرز ، کمرشل ایکسپورٹرز، ان ڈائیریکٹ ایکسپورٹرز ، کامن ایکسپورٹ ہاؤسز ، وینڈرز اور انٹرنیشنل ٹول مینوفیکچررز شامل ہیں۔ اس سکیم کو استعمال کرنے والوں کے ان پٹس کی منظوری کسٹمز کولیکٹر اور ڈائیریکٹر جنرل ان پٹ آؤٹ پٹ آرگنائیزیشن دے گا۔ ان پٹ میں ایسی تمام اشیاء شامل ہیں جو کہ باہر سے درآمد کی گئی ہوں یا مقامی طور پر بنائی گئی ہوں تاکہ اشیاء کی پیدوار کو برآمد کیا جا سکے۔ان پٹ اشیاء میں خام مال ، سپیر پارٹس ، کمپونینٹس، سازوسامان ، پلانٹ اور مشینری شامل ہیں۔ ان پٹ کی درآمد پر کوئی ڈیوٹی یا ٹیکس لاگو نہیں ہو گا اور مقامی طور پر ان پٹس کی فراہمی بھی زیرو ریٹیڈ ہو گی۔ اس سکیم کے تحت کامن ایکسپورٹ ہاؤس کے خیا ل کو تقویت دی گئی ہے  جس کی وجہ سے خام مال کو ڈیوٹی اور ٹیکس فری درآمد کیا جائے گا اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے اینٹرپرائزز کو فروخت کیا جائے گا۔اس سکیم نے انٹرنیشنل ٹول مینوفیکچرینگ کو بھی متعارف کیا ہے۔ اس سکیم کے تحت استعمال کردہ عرصہ کو  ایکسپورٹرز کی پروفائل کو دیکھتے ہوئے دو سال سے بڑھا کر پانچ سال تک کردیا گیا ہے۔

توقع ہے کہ اس نئی سکیم کی وجہ سے کاروباری لاگت میں کمی آئے گی، ٹیکس تعمیل آسان ہوگی، تجارتی آسانی فراہم ہو گی، ایکسپورٹرز کے لیکویڈیٹی مسائل کم ہوں گے اور تجارت کو فروغ ملے گا۔


Adnan Akram Bajwa
Secretary PR FATE Wing
Jul 10, 2021
Copyright © . All rights reserved. Federal Board of Revenue Govt of Pakistan.