Placeholder image

FBR Press Release

Latest FBR Releases

Finance (Supplementary) Bill, 2021 Approved by the Cabinet

A Special Cabinet meeting was convened on 30th December, 2021 to discuss and approve the Finance (Supplementary) Bill, 2021. Chairman Federal Board of Revenue (FBR) explained the salient features of the Bill. In his presentation, he emphasized upon the importance of General Sales Tax(GST) reforms.

The Chairman apprised the Cabinet that IMF had demanded Rs. 700 billion of tax and imposition of 17% GST across the board. However, Team FBR managed to negotiate tax exemptions worth Rs. 343 billion and defended the productive and marginalized sectors of society. While explaining the salient features of proposed Finance (Supplementary_ Bill, 2021, he clarified that commodities of daily use by common man like food items, dairy products, clothing were being kept tax-free in the domestic market. Similarly, import/supply of rice, wheat, meslin, local supply of other grains,fruits, vegetables,beef, mutton, poultry, fish, eggs, sugar cane, beet sugar,and imported vegetable and fruits from Afghanistan are also retained as tax-free. Moreover, milk and fat-filled milk have also been kept as tax-free.

Chairman FBR further elaborated in his presentation to the Cabinet that various items which might somehow attract adverse impact of tax reforms, have been identified for targeted subsidy. He added that input adjustment shall remain available to all taxable business inputs and assured expeditious sales tax refunds to business and industry on import of raw material and capital goods including pharmaceutical sector. He further explained that Pharmaceutical firms have been equated with exporters for purposes of release of refunds within 72 hours. Therefore, pharma firms will now be able to claim refunds on GST paid as input tax on packaging material, utilities etc. which they previously could not – having price tag of Rs. 35 billion. Expectedly, the prices of medicines in the retail market should come down, approximately by 20%.

He highlighted the breakup of total withdrawn tax exemptions of Rs 343 billion and said they can be broken into 3 main segments. These segments are Pharmaceutical with Rs.160 billion, Plant and Machinery Rs.112 billion, and goods Rs. 71 billion. It was clarified that Rs. 272 billion of above tax expenditure on account of machinery and pharma is refundable/adjustable. Only Rs 71 billion tax exemptions on goods is the net imposed tax and this tax includes tax on luxury goods Rs 31 billion and Rs 31 billion on business goods. Only a meagre amount of Rs. 2 billion is related to goods which may affect common man for an elaborate targeted subsidy plan of Rs 33 billion has been proposed to protect any segment of population which may get affected even indirectly by the withdrawal of some exemptions etc.

He further clarified that FED on imported and locally manufactured/assembled vehicles is proposed to be increased on the recommendation of Tariff Policy Board and Ministry of Commerce. Advance tax on cellular services Is proposed to be increased from 10% to 15% while Withholding Taxes are proposed on foreign produced TV serial/dramas and advertisements with foreign actors. Tax on transfer of newly purchased vehicles has been increased to discourage on-money. Exemptions available to REIT have been extended to special purpose vehicles setup under a REIT.

It is pertinent to mention that various issues including pharmaceutical sector, plant & machinery came under discussion in the Cabinet meeting. The Cabinet members raised their concerns about inflationary impact of withdrawal of GST exemptions. Finance Minister explained the dynamics of these withdrawals and assured the cabinet that the inflationary impact will be minimal and further added that due to adjustment of inputs on account of utilities and packaging material etc, the prices of pharmaceutical products will come down. Similarly, adjustment/ refund is available on any input paid on plant and machinery, he added.

A question was also raised regarding increase in advance tax on cellular services. Finance Minister explained that this increase was necessary to cover the revenue loss due to loss of FE on mobile phone calls that was enacted in Finance Act, 2021.

کابینہ نے فنانس (ضمنی) بل 2021 منظور کر لیا

فنانس (ضمنی) بل 2021 پر بحث  اور منظوری کیلئے  30 دسمبر 2021 کو کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس طلب کیا گیا۔ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے بل کی نمایاں خصوصیات پیش کیں۔ انہوں نے اپنی پریزنٹیشن   میں جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا۔

چیئرمین ایف بی آر نے کابینہ کو بتایا کہ آئی ایم ایف نے700 ارب کی ٹیکس استثنیٰ   واپس لینے اور   17فیصد  جی ایس ٹی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ تاہم ٹیم ایف بی آر نے343 ارب روپے کی ٹیکس استثنیٰ پر گفت و شنید کی   اور معاشرے کے پیداواری اور پسماندہ شعبہ جات کا دفاع کیا۔ مجوزہ فنانس (ضمنی) بل 2021 کی نمایاں خصوصیات بیان کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا  کہ عام آدمی کیلئے  روزمرہ اشیائے صرف مثلاً  کھانے پینے کی اشیاء، ڈیری مصنوعات، کپڑے کو مقامی مارکیٹ میں ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جا رہا ہے۔ اسی طرح چاول، گندم، میسلن، دیگر اناج کی مقامی سپلائی، پھل، سبزیاں، بیف ، مٹن، پولٹری، مچھلی، انڈے، گنے، چقندر  کی چینی، اور افغانستان سے درآمد شدہ سبزیوں اور پھلوں کی درآمد/سپلائی کو بھی ٹیکس فری رکھا گیا ہے ۔  مزید برآں  دودھ اور چکنائی والے دودھ کو بھی  ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا  گیا  ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کابینہ کے سامنے  اپنی پریزنٹیشن میں مزید وضاحت کی کہ مختلف اشیاء  کی ٹارگٹڈ سبسڈی کے لیے نشاندہی کی گئی ہے جن پر کسی نہ کسی طرح ٹیکس اصلاحات کے منفی اثرات   مرتب ہو سکتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اِن پٹ ایڈجسٹمنٹ تمام قابل ٹیکس کاروباری اِن کے لیے دستیاب رہے گی اور خام مال اور کیپٹل گڈز  بشمول  فارما سوٹیکل شعبے کیلئے  درآمد پر کاروبار اور صنعت کو تیزی سے سیلز  ٹیکس ریفنڈ ز کی  یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید واضح کہا کہ  فارماسوٹیکل فرموں کو 72 گھنٹوں کے اندر ریفنڈ جاری کرنے کے مقصد  کے لیے برآمد کنندگان کے مساوی کیا گیا ہے۔ لہٰذافارما سوٹیکل  فرمیں اب پیکیجنگ میٹریل، یوٹیلیٹیزاور مختلف اخراجات کے ریفنڈ کا دعویٰ کر سکیں گی جو پہلے ممکن نہ تھا، جن کی لاگت 35 ارب روپے ہے  ۔ متوقع طور پر ریٹیل مارکیٹ میں ادویات کی قیمتوں میں  تقریباً 20 فیصد تک کمی آئے گی ۔

انہوں نے 343 ارب روپے کی ٹیکس استثنیٰ کی واپسی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ انہیں 3 اہم شعبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ شعبے  160 ارب روپے کے ساتھ  فارماسیوٹیکل ،112 ارب  روپے کے ساتھ  پلانٹ اور مشینری اور 71 ارب کے ساتھ گڈز  پر مشتمل ہیں   ۔ واضح کیا گیا کہ  مشینری اور فارما کی مد میں 272 ارب روپے   کے ٹیکس اخراجات قابل واپسی/ایڈجسٹ ایبل ہیں۔ اشیا ء پر صرف 71 ارب روپے کی ٹیکس استثنیٰ کو ختم کرکے ٹیکس عائد کیا گیا ہے اور اس ٹیکس میں پُرتعیش اشیاء پر 31 ارب روپے اور کاروباری سامان پر 31 ارب روپے کا ٹیکس شامل ہے۔33 ارب روپے کے تجویز  کردہ  ایک وسیع ٹارگٹڈ سبسڈی پلان   میں سے صرف 2 ارب روپے کی معمولی  رقم  کا تعلق  ان اشیاء  سے ہے جس سے عام آدمی   پر اثر ہو سکتا ہے تاکہ آبادی کے اس طبقے  کو تحفظ فراہم کیا جا سکے جو چھوٹ  کی واپسی سے بالواسطہ طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ ٹیرف پالیسی بورڈ اور وزارت تجارت کی سفارش پر درآمدی اور مقامی طور پر تیار/اسمبل شدہ گاڑیوں پر ایف ای ڈی بڑھانے کی تجویز  ہے ۔ سیلولر سروسز پر ایڈوانس ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے جبکہ غیر ملکی ٹی وی سیریل/ ڈراموں اور غیر ملکی اداکاروں کے  ساتھ  اشتہارات پر ودہولڈنگ ٹیکس کی تجویز ہے۔ آن منی کی حوصلہ شکنی کے لیے نئی خریدی گئی گاڑیوں کی ٹرانسفر  پر ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے۔ REIT کے لیے دستیاب استثنیٰ کو REIT کے تحت خصوصی مخصوص مقاصد کی حامل گاڑیوں کے سیٹ اپ تک بڑھا دیا گیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں فارماسیوٹیکل شعبے،  پلانٹ اور مشینری سمیت مختلف امور زیر بحث آئے۔ کابینہ کے ارکین  نے جی ایس ٹی استثنیٰ  واپس لینے سے  افراط زر کے اثرات کے حوالے سے   بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ وزیر خزانہ نے ٹیکس چھوٹ کو ختم کرنےکے اثرات کی وضاحت کی اور کابینہ کو یقین دلایا کہ مہنگائی کا اثر کم سے کم ہوگا اور مزید کہا کہ یوٹیلیٹیز اور پیکیجنگ میٹریل وغیرہ کی مد میں اِن پٹ کو ایڈجسٹ کرنے کی وجہ سے ادویات کی قیمتوں میں کمی آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ  پلانٹ اور مشینری پر ادا کی جانے والی کسی بھی ان پٹ پرایڈجسٹمنٹ/ریفنڈ دستیاب ہے۔

سیلولر سروسز پر ایڈوانس ٹیکس میں اضافے سے متعلق بھی سوال اٹھایا گیا۔ وزیر خزانہ نے وضاحت کی کہ یہ اضافہ فنانس  ایکٹ 2021 میں نافذ موبائل فون کالز پر ایف ای  کی وجہ سے ہونے والے محصولات کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے ضروری تھا۔


Adnan Akram Bajwa
Secretary PR FATE Wing
Dec 30, 2021
Copyright © . All rights reserved. Federal Board of Revenue Govt of Pakistan.